کزن، منگیتر اور آپی کے ساتھ ‫

 


میں اکلوتا بیچارہ‬ ‫میرا نام علی ہے ‪.‬عمر ‪ 23‬ہے قد ‪ 9. 5‬سمارٹ‬ ‫جسم نا زیادہ پتلہ اور نا زیادہ موٹا نارمل ہے صاف‬ ‫رنگت ہے اگر کوئی لڑکی پہلی نظر میں مجھ پر مر‬ ‫نہیں سکتی تو بلکل نظرانداز بھی بھی نہیں کر‬ ‫سکتی‪.‬‬ ‫اقرا ‪:‬میری گرل فرینڈ اور ماموں کی سب سے بڑی‬ ‫بیٹی ہے ‪.‬مجھ سی ‪ 2‬سال ‪ 2‬مہینے ‪ 13‬دن چھوٹی‬ ‫سم ہے چھاتیوں کا‬ ‫ہے ‪.‬رنگ گورا بالکل سمارٹ ِج َ‬ ‫سائز ‪ 32‬ہو گا کمر بالکل پتلی ہے اور گانڈ گول‬ ‫مٹول پر زیادہ باہر کو ابھری ہوئی نہیں ہے یعنی کہ‬ ‫مناسب جسم اور پتلے خوبصورت نقوش کی حامل‬ ‫‪ .‬لڑکی ہے‬

‫مہوش ‪:‬میری گرل فرینڈ کی بہن ہے اور اقرا سے‬ ‫سال چھوٹی ہے رنگ تھوڑا سانوال ہے پر بہت ‪2‬‬ ‫ہی پرکشش چہرہ رکھتی ہے باڈی کی شیپ بھی‬ ‫بہت کمال کی ہے سمارٹ اینڈ سلم جسم چھاتیوں کا‬ ‫سائز جسم کے لحاظ سے پرفیکٹ ہے زیادہ بری‬ ‫نہیں ہیں اور گانڈ کا سائز بی نارمل ہے جو اس کی‬ ‫‪ .‬باڈی کو بہت سوٹ کرتا ہے‬ ‫شازیہ ‪:‬سب پیار سے اسے شازی کہتے ہیں مہوش‬ ‫سے چھوٹی ہے ‪ 2‬سال اور اقرا اور مہوش دونو کی‬ ‫طرح شوخ و چنچل اور سیکس کا چلتا پھرتا بم ہے‬ ‫فگر وغیرہ اسی وقت ڈسکس کروں گا جب اِس کو‬ ‫‪ .‬چودنے کی باری آئے گی‬ ‫اِس کے عالوہ بھی اقرا کی ‪ 2‬بہنیں ہیں جو چھوٹی‬ ‫‪ .‬ہیں ‪.‬جو میری شادی کے بعد جوان ہوں گی‬

‫عشال ‪:‬میری سب سے چوٹی بہن ہے شازی کی ہم‬ ‫عمر ہے لیکن مہوش سے پکی دوستی ہے بہت ہی‬ ‫زیادہ خوبصورت اور سمارٹ ہے گھر میں سب‬ ‫سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے بہت الڈلی اور‬ ‫ضدی ہے‬ ‫باقی کا تعارف وقت آنے پہ آئے گا‬ ‫عشا ‪:‬میری بڑی بہن ہے اور مجھ سے ‪ 2‬سال بڑی‬ ‫ہے اور بہت ہی کمال کا فگر ہے بڑے ممے ہیں‬ ‫پتلی سے کمر اور باہر کو نکلی ہوئی ابھری ہوئے‬ ‫گانڈ ‪.‬باقی کرداروں کا باری آنے پہ مینشن کروں گا‬ ‫اِس کے عالوہ بھی میری ایک سسٹر ہے پر اس کی‬ ‫شادی ہو چکی ہے سو اس کا ذکر نہیں آئے گا اور‬

‫جو بھی کوئی اسٹوری میں آئے گا اس کا تعارف‬ ‫اسی وقت کراؤں گا‬ ‫اب آتے ہیں کہانی کی طرف ۔۔۔‬ ‫فارغ ہوتے ہی ایشال ایک کپڑے سے اپنا منہ اور‬ ‫میرے ٹانگیں صاف کر رہی تھی اور مسکراتے‬ ‫ہوئے‬ ‫ایشال ؛ گندے بھائی ساری منی میرے منہ پر پھینک‬ ‫کر منہ گندا کر دیا‬ ‫میں ؛ شکر کرو منی منہ پر پھینکی ہے اندر نہیں‬ ‫پھینکی ورنہ تم آج بن بیاہی ماں بن جاتی ہاہاہا ہاہا‬

‫ایشال ؛ تو کس نے روکا تھا ڈال دیتے اندر یہ آرزو‬ ‫تو میں کب سے لئے پھر رہی ہوں ویسے بھائی آپکا‬ ‫‪ ،‬وہ ہے بہت طاقتور‬ ‫میں ؛ میرا کیا طاقتور ہے ۔‬ ‫ایشال ؛ شرماتے ہوئے آپکا لنڈ اور کیا ۔۔۔۔‬ ‫میں ؛ ابھی تو تم نے اس کی طاقت دیکھی کہاں ہے ۔‬ ‫ایشال ؛ تو دکھا دو نا اب تو میری بے چینی اور بڑھ‬ ‫گئی ہے دل کرتا ہے اسے ابھی اپنے اندر لے لوں ۔‬ ‫میں ؛ کمینی کیوٹی کتنی جلدی ہے لگتا ہے تمیں آج‬ ‫ہی سارا ٹیسٹ سمجھانا پڑے گا ۔۔‬

‫ایشال ؛ بھائی سچ پوچھو تو میں اس ٹیسٹ کیلئے‬ ‫بہت ترسی ہوں جب بھی مہوش اور اقرا سے باتیں‬ ‫سنتی تھی تو گیلی ہو جاتی تھی اور سوچتی تھی کہ‬ ‫کاش مجھے بھی یہ موقع میسر آئے اور میں اپنے‬ ‫بھائی کا لے سکوں ۔۔۔‬ ‫میں ؛ لیکن ایشال پہلی بار بہت تکلیف ہوگی باجی‬ ‫اقصی نے جب پہلی بار لیا تھا تو انکی حالت خراب‬ ‫ہوگئی تھی پتہ نہیں تم یہ سب سہہ پاؤ گی یا نہیں ؟‬ ‫ایشال ؛ بھائی جو بھی ہے ایک نے ایک دن تو کسی‬ ‫نا کسی کا اندر جانا ہے تو کنوارا پن کیوں اپنے‬ ‫پہلے پیار یعنی اپنے بھائی کو پیش کر دوں ۔۔۔۔‬

‫میں نے جب ایشال کا یہ پیار دیکھا تو دل بھر آیا میں‬ ‫نے ایشال کو اپنی بانہوں میں کس لیا اور ایک‬ ‫زبردست فرنچ ِِکس کی اور وہ دیوانہ وار میرے‬ ‫چہرے اور گردن کو چومنے اور چاٹنے لگی‬ ‫اسکے اس بےتحاشہ فور پلے سے اب میں دوبارہ‬ ‫گرم ہونا شروع ہوچکا تھا اور میرے عضو میں‬ ‫دوبارہ سے اکڑپن پیدا ہو گیا تھا ۔۔۔‬ ‫میں ؛ ایشال دل تو میرا بھی یہی کرتا ہے کہ تمہیں‬ ‫آج کی رات اپنی بیوی بنا دوں لیکن میں نے اقرا‬ ‫سے وعدہ کیا تھا کہ میں پہلے اسکی بہنوں کی لوں‬ ‫گا پھر اپنی بہنوں کی طرف آؤں گا ۔۔۔‬ ‫ایشال ؛ بھائی اگر آپ کا دل کر رہا ہے تو یہ بات‬ ‫ہمارے درمیان راز رہے گی اور جب تک آپ نہیں‬ ‫کہیں گے میں یہ بات مہوش یا اقرا کو نہیں بتاؤں‬ ‫گی اور یہ بہنوں سے کیا مطلب آپ میرے عالوہ‬

‫آپی عشا پہ بھی ؟ اور سوالیہ نظروں سے دیکھنے‬ ‫لگی ۔۔۔‬ ‫میں ایشال کی حاضر دماغی پہ حیران رہ گیا اس‬ ‫نے کیسے میری چوری پکڑ لی تھی میں نے انجان‬ ‫بنتے ہوئے‬ ‫میں ؛ آپی عشا پہ نظر مطلب ۔‬ ‫ایشال ؛ بہنوں سے مطلب تو یہی بنتا ہے کہ میرے‬ ‫عالوہ کسی دوسری پر بھی آپکی نظر ہے لیکن آپ‬ ‫بے فکر ہو جائیں اگر آپ آپی کے ساتھ بھی تعلقات‬ ‫چاہتے ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں مجھے تو‬ ‫میرے حصے کا پیار ملنا چاہیے البتہ آپی بہت‬ ‫سخت مزاج ہیں اور وہ ہمارے ساتھ بھی اس طرح‬ ‫کا مذاق نہیں کرتیں اس لئے مجھے نہیں لگتا کہ وہ‬ ‫مانیں گی ۔۔۔۔‬

‫میں ؛ ارے میں نے ایسا کب کہا ہے ویسے بھی آپی‬ ‫کی شادی ہونے جا رہی ہے اس لئے انہیں ایک‬ ‫مستقل مرد مل جائے گا تو شائد ان تک نوبت نا آئے‬ ‫۔۔۔‬ ‫ایشال ؛ ویسے آپی جیسا فگر کسی کے بھی پسینے‬ ‫چھڑا سکتا ہے پھر آپ جیسا سیکسی بندہ جو دن‬ ‫رات سیکس کرتا رہتا ہو انکے متعلق ذہن میں کچھ‬ ‫نا رکھتا ہو یہ ہو نہیں سکتا ۔۔۔‬ ‫میں ؛ تم بہت کمینی ہو چکی ہو ہاہاہا ہاہا ۔‬ ‫ایشال ؛ آخر آپ کی بہن ہوں ہاہاہا ہاہا‬

‫ایشال کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا اب مشکل نہیں‬ ‫تھا کہ وہ ساری کشتیاں جال چکی ہے اور ایسی‬ ‫لڑکی کو چھوڑ دینا اسکی محبت کی توہین ہے اس‬ ‫لئے میں ذہنی طور پر تیار ہو چکا تھا کہ آج رات یہ‬ ‫سنگ میل عبور کر ہی لیا جائے ۔۔۔‬ ‫ِ‬ ‫میں ؛ تو پھر چلیں ان فضاؤں میں جہاں نشہ ہے‬ ‫سیکس کی چھاؤں میں اور اسکی چھوٹی چھوٹی‬ ‫چھاتیوں پہ ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا ۔۔۔‬ ‫ایشال ؛ میرے لنڈ کو مھٹی میں بھرتے ہوئے تیرے‬ ‫رستے میں کھڑے ٹانگیں کھول کہ ہم ہیں دیوانے‬ ‫کریم رول کہ ۔۔۔۔‬ ‫میں اب کروٹ لے کر دایاں ہاتھ ایشال کی مموں پہ‬ ‫پھیرتے ہوئے اسکے پیٹ پہ لے آیا اور پہلے ہاتھ‬ ‫اسکی قمیض کے اوپر اور پھر قمیض کے اندر لے‬ ‫جا کر ناف کی نچلے اور شلوار کے اوپری حصے‬

‫پہ پھیرنے لگا اور ہونٹ اسکی گردن سے لگا کر‬ ‫اوپر کان کی لو کو گرفت میں لے لیا جس سے‬ ‫ایشال کا جسم لرزنے لگا اور اسکے ہاتھ کی گرفت‬ ‫لنڈ پہ زور پکڑتی گئی ساتھ ہی اس نے ہاتھ شلوار‬ ‫کے اندر ڈال کر لنڈ پکڑ لیا اسکا سانس پھول رہا تھا‬ ‫اور سانس سسکیوں میں بدل رہی تھی میں نے اب‬ ‫قمیض آگے گلے تک اوپر کی تو اس نے کمر اٹھا‬ ‫کر اس نے اوپر کرنے میں مدد دی میں نے اسکے‬ ‫ممے برا کے اندر ہی دبانے شروع کر دئے اور‬ ‫پھر برا بھی اوپر سے ہٹا دی اور اسکے مموں پہ‬ ‫حملہ کر دیا‬ ‫وہ اب بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی‬ ‫اور لنڈ کو ادھر اُدھر ہال رہی تھی میں اس سے کہا‬ ‫کہ ایشال جانی تھوڑی اوپر اٹھو تمہاری قمیض‬ ‫اتارنی ہے وہ اٹھی اور ایسی اٹھی کہ اور اسنے‬ ‫اپنی آگے پیچھے سے قمیض پکڑی اور اتار کر‬ ‫سائیڈ پہ رکھ دی اور پھر برا کی ہک کھولی اور وہ‬

‫بھی اتر کر قمیض پر رکھ دی اور آگے بڑھ کر‬ ‫میری قمیض پکڑی اوپر کھینچی میں نے اپنے بازو‬ ‫اٹھائے تو اس نے قمیض اتار کی سائیڈ پہ رکھی‬ ‫ابھی بازو اوپر ہی تھے تو اس نے بنیان بھی اتار‬ ‫پھینکی اسکی پھرتیاں بتا رہی تھیں کہ آج میرا کسی‬ ‫کمسن جوانی سے پاال پڑا ہے پھر اسنے مجھے‬ ‫اپنی بانہوں میں بھینچا اور ایک زناٹے دار ِکس‬ ‫میرے ہونٹوں پہ رسید کر دی اب ہم دونوں گھٹنوں‬ ‫کے بل کھڑے تھے اور جسموں کا اوپری حصے‬ ‫ننگا تھا دونوں کے جسموں پر بس شلواریں موجود‬ ‫تھیں اور وہ پاگلوں کی طرح میرے ہونٹوں کو کھا‬ ‫رہی اور ہاتھ کمر سے نیچے شلوار میں لے جا کر‬ ‫میرے ہپس زور سے دبا رہی تھی اسی دوران اس‬ ‫نے چھاتی کا زور ڈاال اور مجھے بیڈ پہ گراتے‬ ‫ہوئے میرے اوپر لیٹ گئی اور ہونٹوں کو چوستے‬ ‫ہوئے گردن سے ہوتے ہوئے چھاتی پہ آئی اور نپلز‬ ‫کو بار بار چوسنی کی طرح چوستی گئی پھر اسنے‬ ‫زبان نکالی اور ایک طرف سے پھیرتی ہوئی‬

‫چھاتی کے دوسرے طرف تک لے گئی پھر اسنے‬ ‫میرے بازو اٹھائے اور دائیں بگل کو سونگھا اور‬ ‫پھر اس پہ زبان پھیرنے لگی یہ حرکت اس نے‬ ‫بائیں بگل میں بھی دہرائی پھر چھاتی اور چھاتی‬ ‫سے ناف پہ آئی زبان ناف میں ُگھماتی گئی یقین‬ ‫کریں اس وقت میرا کردار اسکے سامنے کسی بت‬ ‫سے زیادہ نہیں تھا اسکے بعد زبان زیر ناف پھیرتی‬ ‫اور نیچے آئی اور اس نے شلوار کا ناال کھوال اور‬ ‫شلوار اتار کر سائیڈ پہ رکھ دی اور میری داہنی‬ ‫ٹانگ کو ران سے چومتی ہو نیچے پاؤں تک گئی‬ ‫اور پھر بائیں پاؤں سے چومتی اوپر ران تک گئی‬ ‫پھر لن کے اردگرد زبان پھیرنے لگ گئی پھر ایشال‬ ‫نے لنڈ کو پکڑا اور ٹوپی کے اوپر زبان پھیری جس‬ ‫سے میں لرز اٹھا اس نے لن کے ٹوپی کو منہ میں‬ ‫لیا اور چوپا لگانے لگ پڑی حاالنکہ میں کچھ دیر‬ ‫پہلے فارغ ہوا تھا لیکن اسکے فور پلے نے مجھے‬ ‫اتنا گرم کر دیا تھا کہ میں پھر فارغ ہونے کہ قریب‬ ‫تھا میں نے ہلکا سا کہا کہ ایشال میں فارغ ہونے لگا‬

‫ہوں یہ سنتے ہی اس نے لن کی شافٹ کو نیچے‬ ‫سے پکڑ کر دو تین بار دبایا اور لنڈ کا پریشر نیچے‬ ‫چال گیا میں حیران و پریشان تھا کہ کہ میرے ساتھ‬ ‫سیکس کرنے والی لڑکی میری چھوٹی سی بہن ہے‬ ‫یا پھر کوئی پی ایچ ڈی پورن سٹار واقعی اس کی‬ ‫سیکس سے متعلق معلومات مجھ سے کہیں زیادہ‬ ‫تھیں پھر وہ میرے ساتھ لیٹ گئی اور کہنے لگی‬ ‫ایشال ؛ بھائی جلدی کرو وہ لمحہ آن پہنچا ہے جس‬ ‫کا وقت کا مجھے بے صبری سے انتظار تھا آپ‬ ‫جس بات پہ حیران ہیں اس کا جواب بھی دوں گی‬ ‫فلحال مجھے اپنا بنائیں اور میری امانت میرے اندر‬ ‫ڈال دیں ۔۔۔۔۔‬ ‫میں خاموشی سے اٹھا اور اسکی شلوار کو اتارنے‬ ‫لگا اس نے کمر اٹھائی میں نے شلوار نکال کر‬

‫سائیڈ پہ رکھ دی اور اسکی ٹانگوں میں آکر بیٹھ گیا‬ ‫کہنے لگی‬ ‫ایشال ؛ بھائی موبائل الئٹ جال لو کیونکہ آپ نے کہا‬ ‫تھا کہ میں تمہیں دکھاتے ہوئے تمہارے اندر ڈالوں‬ ‫گا تو میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ یہ شاندار لن میرے‬ ‫اندر کیسے جاتا ہے ۔۔۔‬ ‫اُف یار اس لڑکی کا ذہن تھا یا کمپیوٹر ہم اس وقت‬ ‫جو کر رہے تھے اندھیرے میں تھے بس کھڑکی‬ ‫سے ہلکی سے الئٹ آرہی تھی جس سے صرف‬ ‫جسموں کے خدوخال نمایاں ہو رہے تھے میں‬ ‫موبائل ٹارچ جالئی اور ایشال کے جسم پر ہلکی‬ ‫سے نظر دوڑائی اس کے جسم کی بناوٹ بلکل‬ ‫پاکستانی اداکارہ ماورا سے حد درجہ مشابہت تھی‬ ‫اب پھدی اسے سے ملتی تھی یا نہیں‪ ،‬پتہ نہیں‬ ‫چونکہ ماورا کی میں نے نہیں دیکھی لیکن یقین‬

‫ہے وہ بھی ایسی ہی ہوگی بہرحال میں تھوک لگا‬ ‫کر لن کی ٹوپی پھدی پہ رکھ کر دبائی اور ایشال‬ ‫کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھوں سے گرین‬ ‫سگنل دیا اور لن کو دیکھنے لگی میں جھکا اور‬ ‫زور ڈاال تو اس نے کہا کہ‬ ‫ایشال ؛ ایک ہی بار ڈال دو میں برداشت کر لوں‬ ‫گی‬ ‫میں جھٹکا مارا اور لن پھدی کی سرحد توڑتا ہوا‬ ‫اندر جا گھسا میں نے دیکھا تو اسکی آنکھوں میں‬ ‫پانی اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ تھی اور کہنے لگی‬ ‫بھائی میں نے کہا تھا کہ برداشت کر لوں گی‬ ‫واقعی انسان جب برداشت کرنے پہ آئے تو بہت‬ ‫کچھ کر سکتا ہے لن واپس کھینچا تو خون آلود‬ ‫اور ایک کنواری پھدی کی سیل کا قاتل بن چکا تھا‬

‫اب میں نے موبائل سائیڈ پہ رکھا اور لن کو آہستہ‬ ‫سے واپس اندر ڈاال اور ایشال کے اوپر لیٹ گیا ۔‬ ‫میں ؛ ایشال کیسا لگا میرا وہ ۔‬ ‫ایشال ؛ بھائی آپکا لنڈ تو کمانڈو نکال تھا اور میری‬ ‫امیدوں پہ سو فیصد پورا اترا آپکو میری کیسی لگی‬ ‫میں ؛ ایشال تمہاری پھدی تو سونے کے انگیٹھی‬ ‫جیسی ہے مجھے ڈر ہے کہیں یہ میرا لنڈا جال کر‬ ‫بھسم نا کر دے ۔‬ ‫ایشال ؛ بھائی جب جب آپکا لنڈ اس انگیٹھی میں‬ ‫جائے گا یہ سونے سے کندن بنتا جائے گا اب آپ‬ ‫مجھے اپنے پانی سے سیراب کریں اور اس آگ‬ ‫کو بجھائیں ۔۔‬

‫میں ؛ میں نے دھکے لگانے شروع کر دئے اور‬ ‫کہا کہ ایشال اندر فارغ ہونے سے کہیں کوئی‬ ‫گڑبڑ نا ہوجائے ۔‬ ‫ایشال ؛ بھائی میں برتھ کنٹرول استعمال کر لوں‬ ‫گی لیکن پہلی بار اندر جانے والے آپکے لن کا‬ ‫پانی باہر گرا کر ضائع نہیں کر سکتی ۔۔۔‬ ‫میں اسکی گرم باتوں اور آگ جیسی پھدی کے‬ ‫آگے زیادہ دیر نا ٹھہر سکا اور پانچ منٹ بعد ایک‬ ‫زبردست سیالب آیا اور ہر چیز بہا کر لے گیا شائد‬ ‫ایشال بھی اپنی منزل کو پہنچ چکی تھی کیونکہ وہ‬ ‫بھی جھٹکے کھا رہی تھی میں ایشال پر بے حال‬ ‫ہو کر لیٹ گیا اور وہ ہونٹ چومنے لگ گئی ۔۔۔‬

‫میں ؛ اسکے پیٹ پہ ہاتھ پھرتے ہوئے ہاں اب بتاؤ‬ ‫اس چھوٹی کمینی نے یہ سب کچھ کہاں سے‬ ‫سیکھا ۔۔‬ ‫ایشال ؛ جب بھائی اتنا بڑا کمینہ ہو سکتا ہے تو‬ ‫میں چھوٹی سی کمینی کیوں نہیں دراصل میں ایک‬ ‫سال سے اردو سیکس سٹوریز پڑھ رہی ہوں اپنے‬ ‫موبائل پہ اور آپکے ساتھ سیکس کا آئیڈیا بھی‬ ‫مجھے وہیں سے آیا لیکن کسی کو کچھ بتایا نہیں‬ ‫حتی کہ مہوش کو بھی نہیں وہ دونوں سمجھ رہی‬ ‫تھیں کہ وہ مجھ پٹا رہی ہیں لیکن حقیقت میں میں‬ ‫انکو کھیال رہی تھی ۔۔۔‬ ‫میں ؛ مان گئے تم سب سے چھوٹی ہو کر بھی‬ ‫سب کی ُگرو نکلی ۔۔۔۔۔‬

‫ایشال سے باتیں کر رہا تھا تو مجھے ایسے لگا‬ ‫جیسا کمرے کی کھڑکی کے پاس کوئی سایہ ہو‬ ‫جو یہ سب دیکھ رہا ہو اب یہ میرا وہم تھا یا‬ ‫حقیقت کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اب سارا سیکس ہوا‬ ‫ہوچکا تھا ٹانگیں کانپ رہی تھیں چہرے کی‬ ‫ہوائیاں اُڑی ہوئی تھیں میں نے شلوار اوپر کرکے‬ ‫باندھی اور آہستہ آہستہ کھڑکی کی طرف گیا ۔۔۔‬ ‫سکھ کا سانس لیا اور‬ ‫وہاں کوئی نہیں تھا تب کچھ ُ‬ ‫باتھ روم چال گیا اور باتھ روم میں بھی بار بار‬ ‫خیال آرہا تھا کہ کوئی تھا یا مجھے وہم ہوا‬ ‫بہرحال میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہا تھا‬ ‫خیر باتھ روم سے باہر آیا تو ایشال ان سب باتوں‬ ‫سے بے خبر میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی‬ ‫تھی ۔‬ ‫ایشال‪ ،‬بھائی اتنی دیر باتھ میں کیا کر رہا تھے ۔‬

‫میں ‪:‬مسکراتے ہوئے کچھ نہیں بس تم نے جو‬ ‫تباہی پھیالئی تھی وہ صاف کر رہا تھا‬ ‫ایشال ؛ تباہی تو جو آپ نے مچائی وہ وہ بھی کم‬ ‫نہیں ابھی تک اٹھنے کہ ہمت نہیں ہو رہی لیکن‬ ‫سکون بھی بہت کب سے یہ حسرت لئے بیٹھی‬ ‫تھی ۔‬ ‫میں نے ٹائم دیکھا تو رات کے دو بج رہے تھے‬ ‫ایشال کو بتایا تو وہ کہنے لگی کہ ہاں اب کوئی‬ ‫بھی اٹھ سکتا ہے ٰلہزا اسے باتھ روم لے کر گیا‬ ‫اسکی ٹانگیں دھوئیں وہ تھوڑی فریش ہوئی کپڑے‬ ‫پہن کر اپنے روم چلی گئی اور میرے ذہن میں‬ ‫ایک بات بار بار گھوم رہی تھی کہ آیا میں نے جو‬ ‫دیکھا وہ سچ تھا یا پھر نظر کا دھوکہ اگر کوئی‬ ‫تھا تو کون ہو سکتا ہے اگر ابا اماں ہوتے تو ہم‬

‫جان سے جاتے باقی آپی پہ چک جا رہا تھا یہ سب‬ ‫سوچتے نیند آگئی صبح جب آنکھ کھلی باہر آیا‬ ‫ایشال کالج جا چکی تھی حیرت تھی کہ وہ کیسے‬ ‫چلی گئی بہرحال میری نظر آپی عشا پر گئی میں‬ ‫انہیں ناشتہ کا کہا وہ ناشتہ الئیں لیکن انکا تاثرات‬ ‫سے مکمل عاری تھا اگر انہوں نے کچھ دیکھا‬ ‫ہوتا تو ضرور بتاتی میں بھی خیال کو ذہن سے‬ ‫جھٹکا اور ناشتہ کرنے لگا امی نے کہا کہ علی‬ ‫بیٹا خالہ کی طرف جانا انہیں کچھ کام تھا میں نے‬ ‫جی اور کچھ دیر بعد خالہ کی طرف نکل گیا خالہ‬ ‫نے کہا بیٹا کچھ قریبی قصبے سے کچھ سامان‬ ‫النے کا کہا میں لے کر واپس آیا تو شام ہو چکی‬ ‫تھی اور اقرا ‪ ،‬مہوش اور شازی بھی گھر آچکی‬ ‫تھیں سالم کیا مجھے دیکھ دیکھ بہت خوش ہوئیں‬ ‫خالہ کچن میں تھیں تو اقرا کے کمرے میں گیا‬ ‫اندر جاتے میں گلے اور ایک فرنچ کس کی پھر ہم‬ ‫باتیں کرنے اس نے پوچھا ایشال کے ساتھ رات کو‬ ‫کیا چونکہ میں نے کو بتایا کرنے سے پہلے لیکن‬

‫اب میں آدھی چھپا گیا اور آدھی بتائی کہ اسکو‬ ‫چوپے لگوائے وغیرہ وہ سن کر بہت خوش ہوئی‬ ‫اور ضد کرنے لگی کہ آج کوئی بہانہ کر کے یہیں‬ ‫رک جاؤ میں نے کہا کچھ کرتا لیکن اماں نہیں‬ ‫مانیں گی تو کہنے لگی خالہ کو میں سنبھال لوں‬ ‫گی باہر نکال تو مہوش ملی ۔‬ ‫مہوش ؛ کزن جان کیسے ہو آجکل گھر کے مزے‬ ‫لے رہے ہو ہمیں کوئی لفٹ ہی نہیں‬ ‫میں ؛کزن جان ساری لفٹیں آج تمہارے لیے ہیں آج‬ ‫رات ۔۔۔‬ ‫وہ مسکراتی ہوئی کچن میں چلی گئی پھر چھت پہ‬ ‫گیا تو شازی بھی پیچھے پیچھے آگئی ۔۔۔‬

‫شازی ؛ جیجا جی آداب عرض ہے‬ ‫میں ؛ آؤ سالی آدھے گھر والی کیسی ہو‬ ‫شازی ؛ ٹھیک نہیں ہوں ۔‬ ‫میں ؛ کیوں کیا ہوا آدھے گھر والی کو‬ ‫شازی ؛ صرف کہتے رہتے آدھے گھر والی کبھی‬ ‫بننے کا موقع تو دیتے نہیں ۔‬ ‫میں ؛ لگتا ہے تمیں اپنی بہن سے زیادہ جلدی گھر‬ ‫والی بننے کی ۔۔۔‬

‫شازی ؛ کیا کریں جیجا جی آپکو دیکھ کر دل‬ ‫مچلنے لگتا ہے پتہ نہیں کیا جادو کر دیا ہے ہم‬ ‫بہنوں پر ۔۔‬ ‫میں ؛ میں نے تو کوئی جادو نہیں کیا بس تم بہنوں‬ ‫کی جوانی ہے کہ بی لگام ہوئے جا رہی ہے‬ ‫شازی تو ڈال دو نا لگام میں تو کبھی سے ڈلوانے‬ ‫کیلئے لگگگگگام راہ تک رہی ہوں ۔‬ ‫شازی کی بے باکی ہمیشہ مجھے محفوظ کرتی‬ ‫ہے کیونکہ ہمارے خاندان میں اس بولڈ اور صاف‬ ‫گو کوئی لڑکی نہیں‪ ،‬میرے ساتھ چارپائی پہ لیٹے‬ ‫یہ باتیں کر رہی تھیں ساتھ اپنے جسم سے مجھے‬ ‫فل گرمائش فراہم کر رہی تھی ابھی اس سے بوس‬ ‫و کنار کرنے مصروف ہی تھا کہ امی کی کال آئی‬ ‫اور کہنے لگی بیٹا آج کی رات خالہ کی طرف‬

‫ٹھہر جاؤ وہ کہہ رہی تھی تمہیں کل صبح بھیج‬ ‫دے گی میں اندر سے خوش بھی ہوا اوپر سے کہا‬ ‫ٹھیک ہے امی جیسے آپ کہیں انہوں نے دعا دی‬ ‫جیتے رہو اور فون بند کردیا میں شازی کو بتایا وہ‬ ‫بہت خوش ہوئی مجھے پتہ چل گیا یہ سب کام اقرا‬ ‫کا ہے میں نیچے جانے لگا تو شازی نے کہا‬ ‫جیجو آج آپ کیلئے ایک سرپرائز ہے میں پوچھا‬ ‫تو کہنے لگی یہ رات کو پتہ چلے گا میں نے کہا‬ ‫ٹھیک ہے دیکھتے ہیں نیچے خالہ نے کھانے‬ ‫کیلئے آواز دی ہم نیچے گئے سب نے مل کھانا‬ ‫کھایا اور خوش گلیاں کرنے لگئے تھوڑی بعد‬ ‫مہوش سب کیلئے گرم دودھ الئی سب نے بھی‬ ‫دودھ پیا اور تھوڑی بعد خالہ نے کہا کہ مجھے‬ ‫نیند آرہی ہے آپ لوگ باتیں کرو میں سونے جا‬ ‫رہی ہوں وہ کمرے میں چلی گئیں کچھ ہی دیر بعد‬ ‫اقرا بھی اٹھی کمرے کی طرف میں پوچھا کہاں‬ ‫رہی ہو تو کہنے لگی سر بہت بھاری محسوس ہو‬ ‫رہا ہے تھوڑا لیٹ کر آتی ہوں میں حیران تھا کہ‬

‫اس مجھے روکا اور خود سونے چلی گئی لیکن‬ ‫معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا جتنا میں سمجھ رہا تھا یہ‬ ‫سب مہوش کا کیا دھرا تھا اس نے دودھ میں‬ ‫خواب آور گولیاں مالئیں تھیں کیوں کہ شازی باتھ‬ ‫روم گئی تو مہوش نے مجھے سب بتادیا ۔۔‬ ‫میں ؛ کزن جان بہت بدمعاش ہو گئی ہو اپنے کام‬ ‫کیلئے کسی کو بھی راستے سے ہٹا سکتی ہو‬ ‫میری بیوی کو بھی ؟‬ ‫مہوش ؛ کزن جان اقرا نے تو ساری زندگی‬ ‫تمہارے ساتھ رہنا کیوں نا آج کی رات ہمارے نام‬ ‫کر دو ۔‬ ‫دیکھ لینا رات بہت لمبی ہے بہت کچھ قربان کرنا‬ ‫پڑ سکتا ہے ۔‬

‫مہوش ؛ گانڈ تو قربان کر چکی باقی ایک چیز‬ ‫بچی ہے وہ آج میں تمہیں خود دینے جا رہی ہوں ۔‬ ‫میں ؛ لیکن تم نے تو کہا تھا آپی عشا کی شادی پہ‬ ‫دو گی اور شادی کو ابھی بہت دن پڑے ہیں ۔‬ ‫مہوش ؛ میں نے سوچا تمہاری بہنوں کے اندر پتہ‬ ‫نہیں کب جانا ہے میں کیوں فالتو میں انتظار کرتی‬ ‫رہوں‬ ‫میں ؛ اور یہ شازی کا کیا کرنا ہے‬ ‫مہوش ؛ شازی ہمارے ساتھ ہوگی یعنی ایک ٹکٹ‬ ‫میں دو مزے ۔‬ ‫میں ؛ یعنی شازی بھی دینے کے موڈ میں ہے ۔‬

‫مہوش پتہ نہیں اگر اسکا دل کیا تو دے لے مجھے‬ ‫کوئی اعتراض نہیں۔‬ ‫میں ؛ اب کہاں چلنا ہے ۔‬ ‫مہوش ؛ چھت پہ چلتے ہیں ۔‬ ‫میں ؛ اور شازی ؟‬ ‫مہوش ؛ وہ آجائے گی ۔‬ ‫میں ؛ یعنی یہ تم دونوں کی ملی بھگت ہے‬

‫مہوش ؛ ملی بھگت نہیں ہم دونوں اپنے اپنے‬ ‫مزے کیلئے اکٹھی ہوئی ہیں یعنی سیاسی اتحاد‬ ‫ہاہاہا ہاہا ۔‬ ‫میں بھی ہنسنا لگا اور وہ میرا ہاتھ پکڑ کر‬ ‫سیڑھیاں چڑھنے لگی ہم چھت پر پہنچے تو میں‬ ‫مہوش کو پکڑ قریب کیا اور ِکس کرنے لگا وہ‬ ‫بھی بھرپور ساتھ دے رہی تھی میں اسے چارپائی‬ ‫پہ لٹاتے ہوئے اس پہ لیٹ گیا اور تھوڑا اوپر ہوا‬ ‫اور اسکی قمیض اٹھا دی اور اسکے پیٹ پہ کس‬ ‫کرتے ہوئے مموں کی طرف گیا اور برا کو بھی‬ ‫ہٹا دیا اور اسکے نپلز چوسنے لگا جبکہ دوسرے‬ ‫ممے کو پورا ہاتھ میں لے کر دبانے لگا وہ میرے‬ ‫بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی کچھ دیر بعد میں‬ ‫نیچے آیا اور مہوش کی شلوار کے نیفے کے ساتھ‬ ‫زبان پھیرنے لگا وہ فل سرور میں جھوم رہی تھی‬ ‫میں اسکی االسٹک والی شلوار کو کھینچا اور‬ ‫شلوار اترتی چلی گئی چاند کی روشنی میں اسکی‬

‫برون شفاف پھدی میرے سامنے تھی میں مہوش‬ ‫کی رانیں کو چومتا ہوا اسکی پھدی تک جا پہنچا‬ ‫اور زبان کی نوک اسکی کلنٹ پہ لگائی اور وہ‬ ‫تڑپ اٹھی میں نے اپنی قمیض اتاری اور شلوار کا‬ ‫ناال کھوال وہ اتار کر سائیڈ پہ رکھے اور مہوش‬ ‫پر لیٹ گیا اور اسے ک ِسنگ کرنے لگا اب پوزیشن‬ ‫یہ تھی میرے ہونٹ اسکے ہونٹوں پہ تھے اور لن‬ ‫ٹانگوں کی درمیاں تھا میں ہاتھ نیچے لیجاتے‬ ‫ہوئے لن کو پکڑا اور مہوش کی پھدی پہ رگڑنے‬ ‫لگا اور مہوش فل جوش میں آچکی تھی ۔‬ ‫مہوش ؛ کزن جان آج اپنی مہوش کو نئی حیات‬ ‫دے دو مجھے مہوش حیات بنا دو ؛‬ ‫میں ؛ کزن جان اس کیلئے مجھے دریا کے اس‬ ‫پار اترنا ہوگا‬

‫مہوش ؛ تو اتر جاؤ سوچ کیا رہے ہو‬ ‫میں نے ہاتھ اسکے منہ کے پاس کیا اور کہا کہ‬ ‫اس پہ تھوک لگاؤ ۔‬ ‫مہوش ؛ اچھا نالے مراؤ نالے گھر چھڈن جاؤ اپنا‬ ‫تھوک لگاؤ‬ ‫میری ہنسی نکل گئی میں کافی ساری تھوک لگائی‬ ‫اور لن پر مل دی اور لن کو چوت پہ سیٹ کیا اور‬ ‫اسکے ہونٹوں پہ ہونٹ رکھے اور جھٹکا مارا تو‬ ‫لن اسکی پردہ بکارت تک جا پہنچا وہ تڑپی میں‬ ‫نے ایک جھٹکا اور مارا اور لن پھدی کو چیرتے‬ ‫ہوئے دریا کے اس پار اتر گیا مجھے ڈر تھا کہ‬ ‫چیخ نا مارے اس لئے ہونٹوں اپنی گرفت میں لیا‬ ‫تھا لیکن اسکی اوں تو نکلی لیکن زیادہ نہیں کچھ‬ ‫دیر دیر کے بعد میں اندر باہر کرنا شروع کیا تو‬

‫وہ نارمل ہوتی گئی اور میری کمر پہ ہاتھ پھیرنے‬ ‫لگی تھوڑی چودائی کے بعد میں نے اسے گھوڑی‬ ‫بنے کو کہا وہ گھٹنوں کے بل الٹی ہوگئی میں‬ ‫ڈالنے لگا میں مجھے کوئی اپنے کھڑ ا محسوس‬ ‫ہوا میں مڑ کر دیکھا تو اک اور دریا کا سامنے تھا‬ ‫جب میں دریا کے اس پار اترا پیچھے شازی‬ ‫کھڑی تھی اور اسکی شلوار اسکے پاؤں میں پڑی‬ ‫تھی قمیض اس نے دانتوں میں پھنسآئی ہوئی تھی‬ ‫اور اپنی پھدی پہ ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔‬ ‫میں ؛ شازی تم کب آئی ۔‬ ‫شازی ؛ جب آپ مہوش آپی سے تھوک مانگ‬ ‫رہے تھے ؛‬ ‫میں ؛ تم دے دیتی تھوک اگر آگئی تھی تو ۔‬

‫شازی ؛ میں کیوں دیتی تھوک میں نے تھوک اپنی‬ ‫لئے سنبھال کے رکھی ہے‬ ‫میں ‪:‬ہاہاہا ہاہا آجاؤ پھر تھری سم کا مزہ لو‬ ‫شازی ‪ ،‬میرے پاس آئی میرے لن کو پکڑ کر‬ ‫مہوش کی پھدی پہ سیٹ کرنے لگی میں فلموں‬ ‫میں تھری سم بہت دیکھا تھا لیکن دو لڑکیوں کے‬ ‫ساتھ میرا پہلی بار تھا میں مہوش جھٹکے مارنے‬ ‫شروع کر دئیے وہ بری طرح ہانپ رہی تھی اس‬ ‫سٹائل میں کرنے بعد میں شازی اپنے قریب کیا جو‬ ‫شلوار پہلے ہی اتار چکی تھی مہوش بھی کھڑی‬ ‫ہو چکی تھی میں نے شازی کو لیٹنے کیلئے کہا‬ ‫تو مہوش بولی ۔‬ ‫مہوش ؛ شازی بہت تکلیف ہوتی ہے سوچ لو‬

‫شازی ؛ تو پھر آپ نے کیوں کیا یہ سب ۔‬ ‫مہوش ؛ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اتنی تکلیف‬ ‫ہوگی ۔‬ ‫شازی ؛ جب مجھے لگے گا تکلیف دہ ہے تو نہیں‬ ‫کروں لیکن جو کام خود کرو اس سے چھوٹوں منع‬ ‫نہیں کرنا چاہیے ۔‬ ‫مہوش الجواب ہوگئے شازی لیٹ گئی اور اپنی‬ ‫قمیض اوپر کر لی لیکن اتاری نہیں میں شازی کی‬ ‫ٹانگوں کر درمیان گھٹنوں بل ہوا تو شازی نے‬ ‫فورا اپنے ہاتھ پہ تھوک گرایا اور اوپر ہوکر‬ ‫میرے لنڈ پہ مل دیا اور کہنے لگی جدوں مروانا دا‬ ‫شوق ہووے تے تیل کول رکھی دا اے ‪ ،‬میں اسکی‬ ‫بات مسکرا دیا اور لن کی ٹوپی اسکی پھدی پہ‬ ‫رکھی اور اوپر نیچے وہ چونکہ مجھے اور‬

‫مہوش کا سین دیکھ پہلے گرم ہو چکی تھی اس‬ ‫لئے ٹانگیں اٹھا کر اردگرد لپیٹ لیں میں اسکا‬ ‫اشارہ سمجھ چکا تھا میں نے مہوش کو کہا کہ‬ ‫شازی پاس آجائے وہ شازی سرہانے بیٹھ گئی میں‬ ‫نے جون لن کا زور لگایا تو شازی چیخ نکلی لیکن‬ ‫مہوش نے فورا ہونٹ اسکی منہ پہ رکھ دئیے‬ ‫اگلے جھٹکے لن سیل توڑتا اندر مورچہ تک جا‬ ‫گھسا شازی چھڑانے

Comments